Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
199 - 627
پائے۔ 		ابن ماجہ ،کتا ب الادب، باب فی الاِستِغفَار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۸)
(6)اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ مَدَنی آقا،مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جو بندہ گناہ کر بیٹھے پھر اَحسن طریقے سے وضو کرے پھر کھڑے ہوکر دورکعتیں ادا کرے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ  سے اِستِغفَارکرے تو اسکی مغفرت کردی جاتی ہے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یہ آیتِ مبارَکہ تلاوت فرمائی:
وَالَّذِیْنَ اِذَافَعَلُوْافَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللہَ فاَسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ط  (پ۴،اٰل عمران:۱۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔
(ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲/۱۲۲، حدیث:۱۵۲۱) 
(7)حضرتِ سَیِّدُنا انَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم رَء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک سفر کے موقع پر ارشادفرمایا : اِستِغفَار کرو۔تو ہم اِستِغفَار کرنے لگے، پھر فرمایا: اسے ستّر70 مرتبہ پورا کرو۔ جب ہم نے یہ تعداد پوری کردی تو  رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جو آدمی یاعورت اللہعَزَّوَجَلَّ سے ایک دن میں ستّر مرتبہ اِستِغفَار کرتاہے اللہعَزَّوَجَلَّ  اس کے سات سو گناہ معاف فرمادیتاہے اور  بیشک جو بندہ دن یا رات میں سات سو سے زیادہ گناہ کرے وہ بڑا بد نصیب ہے۔(شعب الایمان، باب فی محبۃ اللہ، ۱/۴۴۲، حدیث:۶۵۲)
توبہ کی راہ میں رُکاوَٹ بننے والے اُمور اور اُن کا حل 
	توبہ کی بہت اہمیت وفضیلت ہے ۔ان تمام تر فضائل کے باوجود بعض بدنصیب گناہ گار نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر توبہ کرنے میں ٹال مَٹَول سے کام لیتے ہیں۔بہت سے اُمُور ایسے ہیں جو توبہ کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ، اُن میں سے چند اُمور اور اُن کا حَل بیان کیا جاتا ہے۔