Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
198 - 627
شانِ غفّاری میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اور میں اپنے عمل کے مقابلے میں تیری رحمت کی زیادہ اُمید رکھتا ہوں۔‘‘ اس نے یہ کلمات دُہرائے ،تورَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :دوبارہ پڑھو، اس نے پھریہ کلمات دُہرائے۔ فرمایا: پھرپڑھو،اس نے پھروہی کلمات پڑھے تو فرمایا : کھڑے ہوجاؤ! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے۔ (مستدرک حاکم، کتاب الدعاء والتکبیر، باب دعاء مغفرۃ الذنوب الکثیرۃ، ۲/۲۳۸، حدیث:۲۰۳۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2)نبیِّ رحمت ،شفیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہعَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:’’ اے میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو مگر جسے میں نے بچایا ،لہٰذا مجھ سے مغفرت کا سوال کرو، میں تمہاری مغفرت فرمادوں گا اور تم میں سے جس نے یقین کرلیا کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر مجھ سے میری قدرت کے وسیلہ سے استغفار کیا تو میں اس کی مغفرت فرمادوں گا ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ، ۴/۴۹۴، حدیث: ۴۲۵۷)
(3)حضرتِ سَیِّدُنااِبن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے اِستِغفَارکو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہرپریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطافرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطافرما ئے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا ۔
(ابن ماجہ، کتا ب الادب، با ب فی الاِستِغفَار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۹)
(4)حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عَوَّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اُس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ نامۂ اعمال میں اِستِغفَارکا اضافہ کرے۔ 				    (معجم الاوسط، باب الالف، ۱/۲۴۵، حدیث:۸۳۹)
(5)حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِنْ بُسْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفَار کو کثرت سے