قبضِ روح پَیروں سے شروع ہوتی ہے
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ نَزْع کی حالت میں جب موت کے فرشتے نظر آجائیں تواسے ’’غَر غَرَہ‘‘ کہتے ہیں۔اس وقت کفر سے توبہ قُبول نہیں کیونکہ ایمان کے لیے اِیمان باِلغَیب ضروری ہے اور اب غیب مُشاہَدہ میں آگیا ( یعنی دیکھ لیا گیا) اسی لئے ڈوبتے وقت فرعون کی توبہ قُبول نہ ہوئی، مگر گناہوں سے توبہ اُس وقت بھی قُبول ہے۔ بعض علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ مَلَکُ الْمَوتعَلَیْہِ السَّلَام ہر مرنے والے کو نظر آتے ہیں مومن ہو یا کافر، خیال رہے کہ قبضِ روح پاؤں کی طرف سے شروع ہوتا ہے تاکہ بندے کی اس حالت میں دل و زبان چلتے رہیں ،گنہگار توبہ کرلیں ، کہا سنا معاف کرالیں۔ کوئی وَصِیَّت کرنی ہو تو کرلیں یہ بھی خیال رہے کہ غَرغَرہ کے وقت گناہوں سے توبہ کے معنی ہیں گُزَشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوجانا۔ (مراٰۃالمناجیح ، ۳/ ۳۶۵)
ہمارا پاک پَروَردگار کتنا رحیم و کریم ہے کہ انسان اگر ساری زندگی اُس کی نافرمانی میں گزار دے لیکن آخری وقت اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قُبول فرمالیتاہے ۔ مسلمان کی توبہ تو حالتِ نَزْع میں بھی قُبول ہے، لیکن کافرکی توبہ اس حالت میں قُبول نہیں ہوتی۔ ہاں حالتِ نَزْع طاری ہونے سے قبل بڑے سے بڑے کافر کی توبہ بھی قُبول ہو جاتی ہے ۔ توبہ واِستِغفار سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بہت خوش ہوتا ہے۔
’’اِسْتِغْفَار‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے اِسْتِغْفَار کے فضائل پرمشتمل سات روایات
(1)حضرتِ سَیِّدُناجَابِر بِنْ عَبْدُاللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے دا دا سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہو کر عرض کی: ہائے میرے گناہ! ہائے میرے گناہ ! اُس نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی تو رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :یہ دعا پڑھو ! ’’اللھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ وَرَحْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدِ یْ مِنْ عَمَلِیْ‘‘ ترجمہ: اے اللہعَزَّوَجَلَّ!تیری