Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
196 - 627
حدیث نمبر: 18                          مرتے وقت توبہ 
	عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:’’اِنَّ اللہَعَزَّوَجَلَّ یَقْبَلُ تَوبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ۔‘‘رَوَاہُ التِّرْمِذِی، وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ…الخ، ۵/۳۱۷، حدیث:۳۵۴۸)
	ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبد الرحمن عَبْدُاللہ بن عمر خطاب  رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسول ِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ قُبول کرتا ہے  غَرْغَرہ سے پہلے تک ۔ ‘‘
آخری سانس تک توبہ قبول ہے 
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ المفاتیح  میں فرماتے ہیں : یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک کہ روح بالکل حلق میں نہ آجائے، یعنی جب تک موت کا یقین نہ ہوجائے ، موت کا یقین ہوجانے کے بعد کی جانے والی توبہ قابل قبول نہیں جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
 وَلَیْسَتِ  التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِج حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّی تُبْتُ الْئٰن وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ ط (پ۴، النسائ: ۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں۔
	تفسیرِ ابنِ عباس میں ہے کہ موت کے حاضر ہوجانے سے مراد مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھ لینا ہے اور یہ حکم تَغْلِیْبًا (یعنی اکثریت کی بنیاد پر) ہے کیونکہ بہت سے لوگ انہیں نہیں دیکھ پاتے اور بہت سے لوگ انہیں موت سے پہلے دیکھ لیتے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات،  باب الاستغفار، ۵/۱۷۴، تحت الحدیث:۲۳۴۳)