گیااور اپنے آپ کو مخاطَب کر کے کہا :’’ اے اِبن ِمبارَک !تجھے شرم آنی چاہئے کہ نفس کی خواہش کے پیچھے ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے کھڑے گزار دی پھر بھی تو اِعزاز و بُزُرگی کا خواستگار ہے، اگر اِمام نماز میں کوئی بڑی سورت پڑھے تو تُو گھبرا جاتا ہے اس پر بھی تُو مومن ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ ‘‘پھر آپ نے صِدقِ دل سے توبہ کی اور تَحصِیلِ عِلم میں مشغول ہوگئے۔ اور ایسی زُہد و دِین دَاری کی زندگی اِختیار کی کہ ایک روز اپنی والدہ کے باغ میں سورہے تھے آپ کی والدہ نے دیکھا کہ ایک سانپ منہ میں رَیحان کی ٹہنی لیے آپ کے چہرے سے مکھی اور مچھر اڑا رہا ہے۔
(کَشْفُ المَحْجُوْب، ص۱۰۲ )
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
مدنی گلدستہ
’’ بغداد‘‘ کے 5 حروف کی نسبت سے احاد یثِ مبارکہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 5 مدنی پھول
(1) کرمِ الٰہی ہمہ وقت بندے کی توبہ قُبول کرنے کیلئے تیار ہے بس کوئی توبہ کرنے والا ہو۔
(2) سورج کے مغرب سے طُلوع ہونے سے پہلے کی گئی ہر توبہ قُبول ہے اس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
(3) اللہ عَزَّوَجَلَّ جسم سے پاک ہے حدیث شریف میں جو ’’یَدُ اللہ‘‘ کا ذکر ہے۔ اُس پر اِس طرح ایمان لانا فرض ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ’’یَد‘‘اُس کی شان کے مطابق ثابت ہے۔
(4) توبہ کرتے وقت گناہ پر جتنی زیادہ شرمندگی ہو گی رَحمتِ الٰہی اتنی ہی زیادہ متوجہ ہوگی۔
(5)اگر انسان فکر ِمدینہ( اپنا محاسبہ کرنے) کی عادت بنالے تو اسے بہت جلد توبہ کی توفیق نصیب ہو جاتی ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ بہت ہی کریم ہے۔ اس نے اپنے کرَم کے دروازے اپنے بندوں پر کھولے ہوئے ہیں ، ہم بھی