Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
193 - 627
 قاریٔ قراٰن کے پاس سے گزری جو یہ آیت ِمبارکہ تلاوت کر رہا تھا:
وَاِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بِالْکٰفِرِیْنَ (پ۱۰،التوبۃ:۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔
 	آیتِ مبارکہ سنتے ہی لڑکی نے سِتار پھینکا، ایک زور دار چیخ مار ی اور بیہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔جب اِفاقہ ہوا تو سِتار توڑ کر عبادت و رِیاضت میں ایسی مشغول ہو ئی کہ عابدہ وزاہدہ مشہو رہوگئی ۔ ایک دن میں نے اُس سے کہا کہ ’’اپنے آپ پر نرمی کر۔ ‘‘ یہ سن کر روتے ہوئے بولی :’’ کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ جہنمی اپنی قبروں سے کیسے نکلیں گے؟ پُل صِراط کیسے عُبور کریں گے؟ قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے نجات پائیں گے ؟کھولتے ہوئے گر م پانی کے گُھونٹ کیسے پئیں گے؟ اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے غَضَب کو کیسے برداشت کریں گے ؟‘‘اتنا کہہ کر پھربے ہوش ہو کر گِر پڑی۔جب اِفاقہ ہوا تو بارگاہِ خُداوَندی   میں یوں عرض گزار ہوئی : ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ! میں نے جوانی میں تیری نافرمانی کی اوراب کمزوری کی حالت میں تیری اِطاعت کر رہی ہوں ،کیا تو میری عبادت قُبول فرما لے گا؟‘‘پھر اس نے ایک آہِ سرد دِلِ پُردَردسے کھینچی اور کہا:’’آہ! کل بروز قیامت کتنے لوگوں کے عیب کھل جائیں گے ۔‘‘ پھر اس نے ایک چیخ ماری اورایسے درد بھرے انداز میں روئی کہ وہاں موجود سب لوگ اُس کی شدَّتِ گریہ وزاری سے بے ہوش ہو گئے ۔
(الروض الفائق، ص۱۴۸)
 سانپ خدمت کرنے لگا 
	 امامِ طَرِیقَت، سَیِّدُالزُّہَّاد، قائدِ اَوتاد، حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُاللہ بِنْ مُبَارَک مَرْوَزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی توبہ کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے۔ توبہ سے قبل آپ ایک حسین و جمیل باندی کے عشق میں مبتلا تھے۔ ایک رات اپنے ایک دوست کو لے کر اُس کی دیوار کے نیچے کھڑے ہوگئے وہ باندی بھی چھت پر آگئی۔ صبح تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ،اذانِ فَجْر ہوئی تو آپ نے گُمان کیا کہ عِشاء کی اذان ہوئی ہے، لیکن جب دن چڑھا تو معلوم ہوا کہ تمام رات اِسی حالت میں گزر گئی ہے۔ بس یہی بات آپ کی توبہ کا سبب بنی دل میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہو