Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
192 - 627
واضح ہے اور اس میں کُفَّار کی مغفرت کا وعدہ نہیں ، کفر و مغفرت میں تضاد ہے۔	(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۶۲)
	جو بندہ اپنے گناہ پر شرمِندَہ ہو کربارگاہِ خُداوَندی میں سچے دل سے توبہ کرے تواُس کی تو بہ ضرور قُبول ہوتی ہے اگرچہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو بلکہ جو جتنا زیادہ گناہ گار ہو گا اُتنی ہی رَحمتِ خُداوَندی اُس کی طرف متوجہ ہو گی۔ جس کو اپنے گناہ پر نَدامت ہو جاتی ہے اُسے توبہ کی توفیق ضرورملتی ہے اورجسے اپنے گناہ پر جتنی زیادہ شرمِندَگی ہوگی اُس کی توبہ اُتنی ہی زیادہ پُختہ ہو گی۔اِس ضمن میں چندواقعات ملاحظہ فرمائیے: 
( 1)خوفِ خدا ہو تو ایسا!
	ایک حبشی نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی :یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں بے حیائی کے کاموں کا مُرْتَکِب ہوا ہوں ، کیا میری توبہ قُبول ہوگی ؟ارشاد فرمایا: ہاں ! قُبول ہوگی۔ وہ چلاگیا ،پھر واپس آ کر عرض کی:کیا وہ (اللہ عَزَّوَجَلَّ) مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے ؟ فرمایا :ہاں۔ (یہ سن کر) اُس نے ایک چیخ ماری اور اُس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِیسے پرواز کر گئی ۔ 						 (احیاء العلوم، ۴/۱۷)
(2)توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا
	 ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُاللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی:’’ حضور ! مجھ سے ایک گناہ سرزَد ہو گیاہے کیا میری توبہ قُبول ہوجائے گی ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنا منہ پھیر لیا، کچھ دیر بعد اُس کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے آنسوجاری ہیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا:’’ جنت کے آٹھ دروازے ہیں توبہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام کھلتے اور بند ہوتے ہیں اُس (توبہ کے دروازے ) پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو اُسے بند نہیں کرتا پس تو عمل کر اور مایوس نہ ہو۔ ‘‘ 				(احیاء العلوم، ۴/۱۸)
(3) سِتا ر بجانے والی کی توبہ
	حضرتِ سَیِّدُناصالح مُرِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَلِی فرماتے ہیں کہ سِتار( ایک قسم کا باجا) بجانے والی ایک لڑکی کسی