Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
191 - 627
سے اس حال میں ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ کیا ہو تو میں زمین بھر تیری بخشش کروں گا۔ ‘‘ 
(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ…الخ ، ۵/۳۱۸، حدیث:۳۵۵۱)
	 مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنََّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام اس قول ’’عُیُوب کے باوجود بخشتا رہوں گا‘‘کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا، میں آنے والے کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا۔‘‘ اورصوفیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَاماس قول کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ تجھے تیرے گناہ کے مطابق بخشوں گا، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش، بڑے گناہ کی بڑی بخشش ، لاکھوں گناہوں کی لاکھوں بخششیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے ۔
گنہِ رضا کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سِوا	 مگر اے کریم تیرے عَفو کا تو حساب ہے نہ شمار ہے
	’’ گناہوں کا آسمان کی بلندی تک پہنچنا ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تُو گناہوں میں ایسا گھِر جائے جیسے زمین آسمان سے گھِری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں ، بیچ میں تُو ہو، پھر مجھ سے معافی مانگے، تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا، بلکہ آسمانِ زمین کی چکی سب کو پِیس دیتی ہے، اُس کے سوا جو رَبّ سے لگ جائے۔ 
	’’میں زمین بھر تیری بخشش کروں گا‘‘کامطلب یہ ہے کہ جیسے رَازِق(رزق دینے والا) ہر مَرْزُوْق(جس کو رزق دیا گیا) کو بقَدرِ حاجت روٹی دیتا ہے، ہاتھی کو مَن(چالیس سیر کا وزن) اور چیونٹی کو کَنْ (دانہ)دیتا ہے، ایسے ہی وہ غَفَّار بقَدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا، مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو، غدّار نہ ہو، اِسی لیے شرط لگائی گئی کہ ’’میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو‘‘، خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شِرک بمعنی کفر ہوتا ہے، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اﷲ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ (پ۵، النساء:۴۸)   ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔
	اور نبی یا کتاب یا اِسلامی اَحکام میں سے کسی کا اِنکار دَرحقیقت ربّ تعالیٰ کا ہی انکار ہے لہذا حدیث بالکل