سے حیا نہ کرنااور جب دوسری مرتبہ توبہ توڑ دے تو تیسری مرتبہ ہماری بارگاہ میں حاضر ہونے سے شرمِندَگی تجھے نہ روکے اورجب تیسری مرتبہ بھی توبہ توڑدے تو چوتھی مرتبہ میری بارگاہ میں لوٹ آنا،(کیونکہ)میں ایسا جوَّاد ہوں جوبُخل نہیں کرتا،ایسا حَلِیم ہوں جو جلد بازی نہیں کرتا،میں ہی نافرمانوں کی پَردَہ پَوشی کرتا اور تَائِبِین (توبہ کرنے والوں ) کی توبہ قُبول کرتاہوں ، میں خطائیں معاف کرتااور نَدامت کرنے والوں پر سب سے زیادہ رَحم کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے بڑھ کر رَحم کرنے والا ہوں۔ کون ہے جو ہمارے دروازے پر آیا اور ہم نے اُسے خالی واپس لَوٹادیا؟ کون ہے جس نے ہماری جناب میں اِلتجا کی اور ہم نے اُسے دُھتکار دیا؟ کون ہے جس نے ہم سے توبہ کی اور ہم نے قُبول نہ کی ؟ کون ہے جس نے ہم سے مانگا اور ہم نے عطا نہ کیا؟ کو ن ہے جس نے گناہوں سے معافی چاہی اور ہم نے اُسے دھتکار دیا؟ کیونکہ میں سب سے بڑھ کر خطاؤں کو بخشنے والا، سب سے بڑھ کر عَیْبَوں کی پردہ پوشی کرنے والا، سب سے بڑھ کر مصیبت زَدوں کی مدد کرنے والا، گریہ وزاری کرنے والے پر سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ غیبوں کی خبر رکھنے والا ہوں۔ اے میرے بندے! میرے درپہ کھڑا ہوجا،میں تیرا نام اپنے دوستوں میں لکھ دوں گا، وقت ِسحر میرے کلام سے لطف اندوز ہو میں تجھے اپنے طلب گاروں میں شامل کردوں گا، میری بارگاہ میں حاضری سے لذت حاصل کر میں تجھے لذیذ (پاکیزہ)شراب پلاؤں گا، غیروں کو چھوڑ دے، فقر کو لازم پکڑ لے، سَحری کے وقت عاجزی واِنکِساری کی زبان کے ساتھ مُنَاجات کر۔ (الروض الفائق، ص۱۵۵)
کمال درجہ کی عطا
حضرتِسَیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے ابنِ آدم! جب تو مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سے آس لگائے تو میں تجھے تیرے عُیُوب کے باوجود بخشتا رہوں گا اورمیں بے پروا ہوں ، اے اِبنِ آدم! ا گر تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گامجھے کوئی پروا نہیں ،اے اولادِ آدم! اگر تو زمین کو خطاؤں سے بھردے پھر مجھ