Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
189 - 627
  اللہُ اَکْبَرُ)  (ا لتذکرہ باحوالِ الموتٰی، ص۶۴۶)
 	 رَ بِّ کریم کا کرَم بہت وسیع ہے کہ گنہگار کو ہر وقت اپنے کرم کے سائے میں لینے کو تیار ہے ،کوئی آنے والا ہو۔ بندہ چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو اُسے توبہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے اور ہرگز ہر گز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ خُدائے بُزُرگ وبَرتر کے رحم وکرم کی کوئی اِنتہا نہیں۔وہ اپنے بندوں کے زمین وآسمان کے برابر گناہ بھی اپنی رَحمت سے مُعاف فرما دیتا ہے۔ بس توبہ سچّی ہونی چاہیے ۔سچّی توبہ کے بعد اگر نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر نہ چاہتے ہوئے دوبارہ گنا ہ سرزَد ہوجائے تو پھر بھی فوراًتوبہ کر لینی چاہیے۔ جب تک موت کے فَرِشتے نظر نہ آئیں یا سورج مغرب سے نہ نکلے اُس وقت تک کی گئی ہر سچّی توبہ قُبول ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے خاص طور پر جب نوجوان اپنے گناہوں پر نادِم ہو کر بارگاہ ِخُدا وَندی میں توبہ کر تا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر بہت کرَم فرماتا ہے ۔
 نوجوان کی توبہ پر جنت سجائی جاتی ہے
	منقول ہے کہ:  جب کوئی نوجوان اپنے مالک عَزَّوَجَلکی بارگاہ میں توبہ کرتاہے تو فَرِشتے ایک دوسرے کو خوشخبریاں دیتے ہیں۔ دیگر فَرِشتے پوچھتے ہیں : کیا ہوا؟ تو اُن کو کہا جاتاہے کہ ایک نوجوان نے خواب ِ غَفلت سے بیدار ہو کر اپنے پَروَردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر لی ہے ۔ پھر ایک اِعلان کرنے والااِعلان کرتا ہے:’’اس نوجوان کی توبہ کے اِستِقبَال میں جَنَّتوں کو سجا دو۔‘‘  	 				 	(الروض الفائق، ص۱۵۵)
	مَنقُول ہے کہ جب کوئی نوجوان گناہوں کی وجہ سے روتا ہے اور اپنے مالک و محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے :یااللہعَزَّوَجَلَّ ! میں نے بُرائی کی۔ تو اللہعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: میں نے پَردَہ پَوشی کی۔بندہ عرض کرتاہے:میں نادِم ہوں۔جواب ملتاہے :میں جانتاہوں۔پھر عَرض کرتاہے:میں توبہ کرتا ہوں۔ جواب آتا ہے: میں قُبول کرتاہوں ،اے نوجوان ! جب تُو توبہ کرکے تَوڑ ڈالے تو ہماری طرف رُجُوع کرنے