Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
188 - 627
 کس کی توبہ قبول نہیں ؟ 
	ایک قول یہ بھی ہے کہ اُن لوگوں کی توبہ قُبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم(مغرب) سے نکلتا دیکھیں گے لیکن جو لوگ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوں گے ان کی توبۂ کفر بھی قُبو ل ہوگی اور توبۂ گناہ بھی، کہ انہوں نے علامت ِقیامت دیکھی ہی نہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدعوات ، باب الاستغفار ، ۵/۱۶۲، تحت الحدیث:۲۳۲۹)
	مراٰ ۃالمناجیحمیں صَدرُ ا لا فاضِل علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کا قول نقل کیا گیا کہ اس وقت کے بعد انسان کی پیدائش ہی بند ہوجائے گی۔ غرض یہ کہ آیت و حدیث میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے گناہ کرتے رہے توبہ نہ کی ، یہ علامت دیکھ کر توبہ کرنے لگے، ان کی توبہ قُبول نہیں ، کہ غیب کھل جانے کے بعد توبہ کیسی؟ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۳۵۸)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ 	اَسْتَغْفِرُ اللہ
سورج کے مغرب سے طُلُوع کرنے میں کیا حکمت ہے ؟
	عَلَّامَہ قُرْطُبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’ حضرتِ سَیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے نَمْرُوْد سے فرمایا تھا :
فَاِنَّ اللہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ(پ۳، البقرہ:۲۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تواللہعَزَّوَجَلَّ  سورج کو لاتا ہے پورب(مشرق)سے تُو اس کو پچھم (مغرب)سے لے آتو ہوش اُ ڑ گئے کافر کے۔
	 مُلْحِد (کافر و بے دین)اور نُجُومی   آخر تک اِس کے مُنکِر رہے اور کہتے رہے کہ سورج کا مغرب سے نکلنا ممکن نہیں ہے ، پس اللہعَزَّوَجَلَّ ایک دن سورج کو مغرب سے نکال کر ان بے دینوں اور قدرتِ الٰہی کے منکروں کو دکھائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر چیز پر قادر ہے اس کی مرضی چاہے وہ سورج کو مشرق سے نکالے یا مغرب سے۔ (سُبْحَانَ اللہِ