Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
187 - 627
حدیث نمبر:17   سورج کے مغرب سے طُلُوع ہونے سے قبل ہر ایک کی توبہ قبول ہے  
 	عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللہُ عَلَیْہ۔ 
(مسلم، کتاب الذکر والدعا …الخ ، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص۱۴۴۹، حدیث:۲۷۰۳)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص مغرب سے سورج کے طُلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس شخص کی توبہ قُبول کرے گا۔‘‘
قیامت کی نشانی
	قیامت سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہونگیں جن میں سے ایک بہت بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طُلوع ہونا ہے ،یہ نشانی ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ  تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ  (پ۸، الانعام:۱۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تمہارے ربّ کی وہ ایک نشانی آئے گی، کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی۔
	عَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :یہ توبہ قُبول ہونے کی حد ہے اور حدیثِ صحیح میں ہے کہ توبہ کا دروازہ کھُلا ہوا ہے اور جب تک توبہ کا دروازہ بند نہ ہو توبہ قُبول ہوتی رہے گی اور جب سورج مغرب سے طُلوع ہوگا تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور جس نے اس سے پہلے توبہ نہ کی ہو گی اس کی توبہ قُبول نہیں ہوگی۔ توبہ کی دوسری شرط یہ ہے کہ غَرغَرَۂ موت اور وقتِ نَزَعْسے پہلے توبہ کرے، کیونکہ وقتِ نَزْع میں توبہ قُبول نہیں ہوتی اور نہ وصیت نافذ ہوتی ہے۔ (شرح مسلم للنوی،کتاب الذکر والدعا، باب التوبۃ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ایھا الناس، ۹/۲۵، الجزء السابع عشر)