Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
186 - 627
حدیث نمبر:16 				دستِ رحمت
	عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسٍ اَلْاَ شْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّم،قَالَ:’’اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَبْسُطُ یَدَہُ بِاللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ النَّہَارِ،ویَبْسُطُ یَدَہُ بِالنَّہَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ اللَّیْلِ،حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا۔‘‘ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
(مسلم ،کتاب التوبۃ ، باب قبول التوبۃ من الذنوب …الخ، ص۱۴۷۵، حدیث:۲۷۵۹)
	ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَبو مُوسٰی اَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّرات بھر اپنا دستِ رَحمت پھیلائے رکھتاہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن بھر اپنا دستِ رَحمت پھیلائے رکھتاہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ،یہ کرم نوازی اس وقت تک ہو تی رہے گی جب تک کے سورج مغرب سے طُلوع نہ ہو۔‘‘ 
اللہ عَزَّوَجَلَّ جسم سے پاک ہے 
	اِکْمَالُ الْمُعْلِم شرحِ مسلممیں ہے : حدیث مذکور میں ’’ہاتھ پھیلانے ‘‘سے مراد توبہ قبول فرمانا ہے کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب وہ اپنی پسندیدہ چیز دیکھتا ہے تو اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور جب کوئی ناپسندیدہ شے دیکھتا ہے تو اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے ۔اس طرح کے الفاظ اہلِ عرب اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے انسانوں جیسا ہاتھ ہونا محال ہے اور ہاتھ بڑھانا کھینچنا یہ بھی جسم کی صفات ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ جسم سے پاک ہے۔ کبھی ’’یَد‘‘ کا اِطلاق نعمت پر بھی کر دیا جاتا ہے یعنی نعمت کو بھی یَد کہہ دیتے ہیں۔ 
(اکمال المعلم ،کتاب التوبۃ باب قبول التوبۃ من الذنوب …الخ، ۸/۲۶۰، تحت الحدیث:۲۷۵۹)
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مشکٰوۃمیں فرماتے ہیں : ہاتھ پھیلانے سے مراد توبہ قبول کرنا ہے ، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اُس کی جُود و عطا کا وسیع ہونا ہے کہ وہ توبہ کرنے والے کو کبھی   نہیں دھتکارتا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، باب الاستغفار، ۵/۱۶۲، تحت الحدیث:۲۳۲۹)