وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: بندہ جب کوئی گناہ کرلیتا ہے ،پھر کہتا ہے :مولیٰ !میں نے گناہ کرلیا مجھے بخش دے، تو ربِّ کریم فرماتا ہے: یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جوگناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے،میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔پھرجب تک ربّ چاہے بندہ گناہ سے بچا رہتا ہے،پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: یاربّ! میں نے گناہ کرلیا مجھے بخش دے،تو ربِّ کریم فرماتا ہے:یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پرپکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر بندہ ٹھہرا رہتا ہے جتنا ربّ چاہے، پھر گناہ کر بیٹھتا ہے اور عرض کرتا ہے: یاربّ! مجھ سے گناہ سرزد ہو گیا ہے ،مجھے بخش دے، تو ربّ فرماتا ہے: یقینا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ربّ ہے جو گناہ بخشتا ہے اوراس پر پکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا جو چاہے کرے ۔
(بخاری،کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: یریدون ان یبدلوا کلام اللہ،۴/۵۷۵، حدیث:۷۵۰۷)
(4)کون سا گناہ گار بہتر ہے؟
حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے: ہر آدمی گناہ گار ہے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۱، حدیث:۴۲۵۱)
اس حدیثِ پاک سے اِستِغفَار کی فضیلت بیان کر نا مقصود ہے کہ جب بندہ سچّی توبہ کر لے لیکن پھر نفس کے بہکاوے میں آکر دوبارہ گناہ کر لے پھر نادِم ہو کر سچّی توبہ کرے، پھر گناہ کر بیٹھے، پھر توبہ کرلے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت بہت وسیع ہے وہ ہر سچّی توبہ قُبول فرماتا ہے اگرچہ کتنی ہی مرتبہ کی جائے ۔ ہمیں چاہئے کہ جب بھی ہم سے گناہ سرزد ہو جائے تو فورًا بارگاہِ خدا وَندی میں توبہ کر کے اپنے کریم ربّ کو راضی کرلیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم پرہر وقت اپنی رَحمت کا سایہ رکھے اورگناہوں سے سچّی توبہ اور خوب اِستِغفَارکرنے کی توفیق مَرحَمَت فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم