اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے، لہٰذاایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہومگر جسے میں نے ہدایت دی ،تم مجھ سے ہدایت چاہو میں تمہیں ہدایت دونگا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں نے کھلایا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب بے لباس ہو مگر جسے میں نے کپڑے پہنائے ،تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطافرماؤں گا ۔اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخش دیتاہوں تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو!تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے نفع تک بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نفع پہنچاسکو ۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اورر تمہارے اِنس وجن تم میں سے کسی ایک متقی پر ہیز گار کی طر ح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا ۔اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے اِنس وجن تم میں سب سے زیادہ گناہ گارشخص کی طر ح فا جِر ہوجائیں تو بھی میرے مُلک میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ اے میرے بند و! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے اِنس وجن کسی ایک مکان میں یکجا ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورافرمادوں تو بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہ آئے گی مگر اتنی کہ جیسے کسی سوئی کوسمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ جتنی کمی کرتی ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں شمار کرتا ہوں پھر تمہیں اِن کا پورا اَجر عطا فرماؤں گا لہٰذا جوبھلائی پائے تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو اِدْرِیْس خَوْلَانِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب یہ حدیثِ مبارک سناتے تو گھٹنوں کے بَل کھڑے ہوجایاکرتے تھے۔
(مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۳، حدیث:۲۵۷۷)
(3) اللہعَزَّوَجَلَّکی شانِ غَفّاری
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہنَبِیِّ مُعَظَّم،رَسُولِ مُحتَرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ