Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
182 - 627
(بہت زیادہ تلاش کرنے) کے بعد بھی جب اونٹ نہ ملے تویہ سوچ کر اُسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اب یہیں مرجاؤں گا، کیونکہ دُور دُور تک پانی وآبادی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔پھر اچانک وہ اپنے اونٹ کو سامان سمیت اپنے پاس کھڑا دیکھے ۔توایسے شخص کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی کیونکہ جس کی جان بھی بچ جائے اور بھاگی ہوئی یا گمشدہ چیز بھی مل جائے تو واقعی اس کی خوشی بیان سے باہر ہوتی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّبھی اپنے گناہ گاربندے کی توبہ سے بہت زیادہ راضی ہوتا ہے۔ گناہ گاربندہ درحقیقت گناہوں کی نُحوسَت کی وجہ سے اپنے ربِّ کریم ،مالک حقیقی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دَر سے دُور ہوتا ہے ۔ لیکن جب وہ نادِم ہو کرواپس آئے تو اللہعَزَّوَجَلَّ اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اور یہ خوشی اس شخص کی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس کی گمشدہ سُواری مع سامان کے اچانک واپس آجائے ۔
( ملخصًااز تفہیم البخاری، ۹/۵۸۹ )
	 ہمارا کریم پَروَرد گار عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کی توبہ پر بہت خوش ہوتا ہے ۔بندے سے چاہے کتنے ہی گناہ سرزد ہوجائیں توبہ کرنے میں ہر گز سستی نہیں کرنی چاہیے مگر قُبولیت کیلئے سچّی توبہ ہونا شرط ہے۔
’’بَخْشِشْ‘‘کے 4 حروف کی نسبت سے بَخْشِشْ کی4روایات
(1)بڑے سے بڑے گناہ گار کی توبہ بھی قُبول ہے
	حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت،محسنِ انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کروتو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری توبہ قُبول فرمالے گا۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۰، حدیث:۴۲۴۸)
(2)الٰہی میں تیری رَحمت کے قربان 
	حضرتِ سَیِّدُناابوذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، دو جہاں کے تاجوَر، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ربّ   تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اے میرے بندو! میں نے ظلم کو خود پر حرام کردیا ہے اور