اٰمِنُوْٓا بِاﷲِ وَرَسُوْلِہٖ ترجمۂ کنزالایمان:ایمان رکھواللہ
اور اللہ کے رسول پر۔
(پ۵،النسائ: ۱۳۶)
لیکن ہر شخص کے ایمان کا ارادہ نہیں فرمایا ورنہ دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا۔ یہاں اس کی رِضا کا ذکر ہے نہ کہ ارادے کا۔ اورجس طرح ا س شخص کو نااُمیدی کے بعداُمید سے ایسی خوشی ہو ئی جو بیان سے باہر ہے کیونکہ اُسے اپنی جان سے بھی نااُمیدی ہوچکی تھی۔اپنے گناہ گار بندے کی توبہ پر ربِّ کریم کو جو خوشی ہوتی ہے ہم اُسے بیان نہیں کرسکتے۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّکی خوشی کو بندے کی خوشی کی مثال دے کر بیان کرنا ) یہ تشبیہ مرکب ہے یعنی پورے واقعے کو پورے واقعے سے تشبیہہ دی گئی ہے ،نہ کہ ہر حال کو ہر حال سے، لہٰذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ( مَعَاذَاللہ) رَبّتعالیٰ مایوس بھی ہوا ہو اور بعد میں اُسکی آس بندھی ہو،بلکہ مقصد یہ ہے کہ رَبّ تعالیٰ ہم پر خودہم سے زیادہ مہربان ہے۔ جتنی خوشی ہم کو اپنی جان بچنے سے ہوتی ہے، اُس سے زیادہ خوشی اللہ عَزَّوَجَلَّکو بندے کا ایمان بچنے سے ہوتی ہے۔بندے کا یہ کہنا کہ ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ‘‘تویہ کلام انتہائی خوشی بیان فرمانے کیلئے ہے نہ کہ تشبیہ کیلئے کیونکہ ربّ تعالیٰ غلطیوں اور خطا سے پاک ہے، خوشی کی وجہ سے بندے کی مَت کٹ گئی( یعنی عقل منقطع ہو گئی) وہ کہنا توچاہتا تھاکہ’’ یاربّ !میں تیرا بندہ، تو میرا ربّ ہے ‘‘لیکن اُلٹا کہہ گیا، اس سے معلوم ہوا کہ خطا ًمنہ سے کفر نکل جانے پر بندہ کا فر نہیں ہوتا کیونکہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر حکم کفر نہ فرمایا، لیکن یہ اُس وقت ہے جب خطاپر اِطِّلاع نہ ہو، اِطِّلاع ہونے پر فورًاتوبہ ضروری ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،۳/۳۵۹)
مفہومِ حدیث
حدیثِ مذکور میں ربِّ کریم کی انتہائی رِضا بیان کی گئی ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّبندے کی توبہ پر اُس آدمی سے بھی کہیں زیادہ راضی ہوتا ہے جو اُونٹ پر سوار جنگل سے گزر ر ہا ہو ،گرمی کی شِدَّت سے پریشان ہو کر ایک درخت کے سائے تلے ٹھہر ے تو تھکاوٹ کی وجہ سے اُسے نیند آجائے ۔جب بیدار ہو تو اونٹ کومع سامان گُم پائے ۔ تلاشِ بِسیار