نہیں۔ اسی طرح ان الفاظ کو بطورِ حکایت یا کسی شرعی فائدے کیلئے بیان کرنے پر بھی کوئی مواخذہ نہیں۔ ہاں مذاق میں یا کسی کی نقل اتارتے ہوئے یا فضول گوئی میں ایسے کلمات کہے تو پھرمواخذہ ہوگا۔
(فتح الباری، کتاب الدعوات، باب التوبہ، ۱۲/۹۱، تحت الحدیث:۶۳۰۹)
توبہ کرنا کس پر فرض ہے ؟
اِکْمَالُ الْمُعْلِم شرح مسلم میں ہے : توبہ کرناہر اس شخص پر فرض ہے جو اپنی طرف سے ہونے والے گناہ کو جان لے خواہ وہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ اور توبہ تمام فرائض کی اصل ہے۔حضرتِ سیدناسُفْیَان بِنْ عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : توبہ اس امت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو کہ پچھلی امتوں پر نہ تھی اور بنی اسرائیل کی توبہ خود کوقتل کرنا تھی۔ (اکمال المعلم، کتاب التوبۃ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا،۸/۲۴۲، تحت الحدیث:۲۶۷۵)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوش ہونے سے کیا مراد ہے ؟
علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے خوشی کا اِطلاق مجازًاکیا گیا ہے اور اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا مراد ہے یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ بندۂ مومن کی توبہ سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ ، ۱۵/۴۱۵، تحت الحدیث:۶۳۰۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ایسے مقامات پر خوشی سے مراد رِضا ہوتی ہے، کیونکہ اِصطِلاحی فرحت و خوشی سے ربّ تعالی پاک ہے، خیال رہے کہ رِضا اور ہے اور ارادہ کچھ اور ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر بندے کے ایمان و شکر سے راضی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ (پ۲۳،الزمر:۷) ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر شکر کرو تو اسے تمھارے لئے پسند فرماتا ہے ۔
اور ہر شخص کو اس نے ایمان کا حکم بھی دیا ہے: