Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
179 - 627
حدیث نمبر:15		توبہ کرنے والے پررضائے اِلٰہی کی برسات
	عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’لَلّٰہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ(بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث: ۶۳۰۹)وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلم لَلّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فَلاۃٍ ، فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْہَا، فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا وَقَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ ، فَبَیْنَمَا ہُوَکَذَالِکَ اِذْ ہُوَبِہَا قائِمَۃً عِنْدَہٗ ، فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا ، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ’’اللہُمَّ اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ‘‘اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ(مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص۱۴۶۹، حدیث:۲۷۴۷)
	ترجمہ: خادِمِ رسول  حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہینَبِیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔‘‘(مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں )’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہعَزَّوَجَلَّکو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی جنگل میں اپنی سُواری پر جائے اور سُواری گم ہو جائے ، اور سُواری پر اُس کا کھانا اور پانی ہو اور وہ(سُواری کے ملنے سے) مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے ،پھر اچانک وہ سُواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو، وہ اس کی مَہار (یعنی رسی  ) پکڑلے ،پھر خوشی کی شدت میں یہ کہے :’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!  تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا ربّ ہوں۔‘‘ شدتِ خوشی میں اس سے الفاظ اُلٹ ہو جائیں۔
جوہوش میں نہ ہو اس پر مواخذ ہ نہیں 
	فتح الباری شرح بخاریمیں ہے کہ شدید گھبراہٹ ،کسی انتہائی تعجب خیز واقعے یا کسی اور وجہ سے انسان ہوش میں نہ رہے یا بھول کر اس کی زبان سے ایسے کلمات نکل جائیں (جو خلافِ شرع ہوں ) توان پر مواخذہ (یعنی پکڑ)