Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
177 - 627
کئے ہیں ان میں سے 3یہاں ذکر کئے جاتے ہیں :
	حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذوالجلال، صاحبِ جودو نَوالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے : جس نے اِسْتِغْفَار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیگا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔				   (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/۲۵۷، حدیث:۳۸۱۹)
	حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُسَرَّت نشان ہے جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامۂ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ اس میں اِسْتِغْفَار کا اضافہ کرے ۔ (مجمع الزوائد، کتاب التوبۃ، باب الاکثار من الاستغفار، ۱۰/۳۴۷، حدیث:۱۷۵۷۹)
سَیِّدُ الْاِسْتِغْفَار پڑھنے والے کے لئے جنت کی بِشارت
	حضرتِ سَیِّدُنا شَدَّاد بِنْ اَوْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن َصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : یہ سَیِّدُ الْاِسْتِغْفَار ہے :
اللَّہُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَا اِلَہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ واَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ۔
	ترجمہ: اے اللہ تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور بقدرِ طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں میں اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔(بخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار،۴/۱۸۹،۱۹۰، حدیث:۶۳۰۶)