پانی کا مشکیزہ اٹھائے بارگاہ ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہو گیا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :یہ ہرنی ہمیں بیچ دو ! عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ بطورِ ہدیہ پیشِ خدمت ہے۔ چنانچہ ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے آزاد فرمادیا۔ حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل میں تسبیح اور کلمہ پڑھتی ہوئی جارہی تھی ۔ (دلائل النبوۃ، ۶/۳۵)
(2) اُونٹ پرشَفقَتِ نبوی
حضرتِ سَیِّدُنایَعْلٰی بِنْ مُرَّہ ثَقَفِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ :ایک سفر میں مجھے نَبِیِّرحمت، شفیعِ ِاُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہمراہی کا شرف ملا تو میں نے اس سفر میں تین عظیم ُالشَّان چیزیں دیکھیں۔ راستے میں ایک اُونٹ کے ذریعے پانی نکال کرکھیت میں ڈالا جا رہا تھا ۔ اونٹ کی نظر جیسے ہی بے کسوں کے فریادرَس، نَبِیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑی توبڑی بے قراری سے چیخا اور اپنی گردن زمین پررکھ دی۔ یہ دیکھ کرنَبِیِّرحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماونٹ کے پاس ٹھہر گئے اور اِس کے مالک کو بُلوا کر فرمایا:یہ اُونٹ ہمارے ہاتھ بیچ دو! اس نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم یہ آپ کی بارگاہ میں تحفۃً پیش کرتے ہیں ، یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اِس اُونٹ کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا:اِس اُونٹ نے ہم سے چارہ کی کمی اور کام کی زیادتی کی شکایت کی ہے ۔لہٰذا تم اِس سے اچھا سُلوک کیا کرو۔( یعنی خوراک پوری دو اور حد سے زیادہ کام نہ لو)یہ فرما کرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے چل دیئے ۔ ایک مقام پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام کی غرض سے لیٹے تو ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیااور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سایہ کرلیا پھر کچھ دیر بعد واپس اپنی جگہ چلا گیا ۔ جب میرے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نیند سے بیدار ہوئے اور میں نے واقعہ عرض کیا تو فرمایا: اس درخت نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کی اجازت مانگی تو اسے اجازت مل گئی ۔یہ ہمیں سلام کرنے آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو ایک عورت اپنا