شَفقَت و نرمی فرمائی ،ان کے آرام و خوراک پر حد درجہ توجہ فرما کر اُس دَور میں دنیا میں جانوروں پر رحم وکرم کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی جب اِنسان اِنسان پر رحم نہ کرتا تھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جانوروں کو بِلا ضرورت مارنے، زندہ جانور کا گوشت کاٹنے،منہ پرمارنے، داغنے،بے ضرر جانوروں کو مارنے،بے جا استعمال کرنے، جانوروں کو آپس میں لڑانے،طاقت سے زیادہ کام لینے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھنے اور انہیں پریشان کرنے سے منع فرمایا۔ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں جانور بھی فریاد کرتے اور اُن کی فریاد رَسی کی جاتی اُن کی مشکلیں حل کی جاتیں۔ نَبِیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانوروں پر شَفقَت کا اندازہ ان واقعات سے لگایئے ۔
(1)ہِرنی کی فریاد
حضرتِ سَیِّدُنازید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نَبِیّرَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک اَعرابی کے خیمے کے پاس سے گزراتو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ۔نَبِیِّ رحمت ،بے کسوں کے فریادرَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نظر پڑتے ہی ہرنی نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ خیمے والا اَعرابی مجھے جنگل سے پکڑ کر لایا ہے ، جبکہ میرے دو بچے جنگل میں ہیں ،میرے تھنوں میں دودھ گاڑھا ہورہا ہے یہ نہ تو مجھے ذَبح کرتا ہے کہ میں اِس تکلیف سے راحت پاجاؤں اور نہ مجھے چھوڑتا ہے کہ اپنے بچوں کو دودھ پلا آؤں۔ ہرنی کی فریاد سن کر مظلوموں کے فریاد رَس مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر میں تجھے چھوڑدوں تو کیا تو اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجائے گی ؟ عرض کی :جی ہاں ! یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ضرور واپس آؤں گی ،اگر میں نہ آؤں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے کا سا عذاب دے۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے چھوڑا تو وہ بڑی تیزی وبے قراری سے جنگل کی طرف چلی گئی ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ خوشی خوشی واپس آگئی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے خیمے کے ساتھ باند ھ دیا۔ اتنے میں وہ اَعرابی بھی