Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
173 - 627
 آتے اور اِن پر بھی خصوصی کرم فرماتے۔ دُنیوی معاملات اور کام کاج کے سلسلے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی خادم پر نہ کبھی سختی فرمائی ،نہ ہی کبھی مارا ۔ گھریلو معاملات اور خُدّام کے ساتھ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برتاؤ سے متعلق اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بڑھ کر کون واقف ہو سکتا ہے۔ آپ فرماتی ہیں : ’’مَا ضَرَبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَادِمًا وَلَا اِمْرَئَۃً قَطُّ ‘‘ یعنیرَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی کسی خادم یا عورت کو نہ مارا ۔(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی التجاوز فی الامر، ۴/۳۲۸، حدیث:۴۷۸۶)
کتنی مرتبہ معاف کیا جائے؟ 
	ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی کسی غلام یا خادم کو نہیں مارا ۔مارنا تو بہت دور کی بات ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ تو خود کسی خادم کو ڈانتے نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیتے۔ منقول ہے ایک آدمی نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کی :’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آخر ہم اپنے خادموں سے کتنی مرتبہ درگزر کریں ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے اس نے دوبارہ پوچھا :آپ خاموش رہے ، جب تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ اُعْفُوْا عَنْہُ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً ‘‘ یعنی اس سے دن میں 70مرتبہ در گزر کرو۔   (مشکوۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب النفقات، الفصل الثانی، ۲/۲۶۵، حدیث:۳۳۶۷)
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود			ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام
جانور وں پر کرمِ مصطفیٰ
	حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوق کے لئے سراپا رحمت بن کردنیا میں جلوہ گر ہوئے ۔ یہ کیسے ممکن تھاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے زبان جانوروں پر توجہ نہ فرماتے؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جانوروں کے ساتھ کی جانے والی ہر زیادتی اور نا رَوا سُلوک سے نہ صرف لوگوں کو منع فرمایا بلکہ خود عملًا ان کے ساتھ