Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
172 - 627
میری شَفاعت میری اُمَّت کے بڑے گناہ گاروں کے لئے ہے ۔
(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، باب منہ: شفاعتی لاہل الکبائر من امتی، ۴/۱۹۸، حدیث:۲۴۴۳)
	ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلاتے ،جو بھی آپ کے پاس فریاد لے کر آتا اس کی فریاد رَسی فرماتے ۔
 دبدبۂ نبوی اور اَبُوجَہْل کی بد حواسی
	اَبُوجَہْل ایک یتیم بچے کا کفیل تھا اُس نے بچے کا مال ہَڑَپ کر لیا،بچے نے غریبوں کے والی، یتیموں کے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو کر اَبُوجَہْل کے خلاف اِمداد کی درخواست کی، یہ وہ بارگاہ تھی جہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہ لوٹا، جوآیا اپنی مرادیں پا کر گیا۔ چنانچہ ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی وقت اَبُوجَہْل کے پاس تشریف لے گئے اور اُسے یتیم کا مال واپس کرنے کا حکم دیا۔ اُس نے فورًا ہی بِلا چوں وچَراں تمام مال واپس کر دیا ۔ یہ دیکھ کر اُس کے ساتھیوں نے کہا: تجھ پر اتنی گھبراہٹ طاری کیوں ہو گئی کہ فورًا ہی حکمِ مصطفیٰ پا کر مال واپس کر دیا ؟ اَبُوجَہْل نے کہا : میں نے اُن کے دائیں بائیں انتہائی خطر ناک نیزے دیکھے تھے اگر میں ادائیگی سے اِنکار کرتا تو ضرور مارا جاتا اِسی لئے حکمِ مصطفیٰ ماننے ہی میں عافیت سمجھی۔  			     
(ا لسیرۃ الحلبیہ، ۱/۴۴۵)
کافروں پر تیغ والا (1) سے گری برقِ غضب(2)		 اَبر آسا(3) چھا گئی  ہیبت  رسولُ اللہ  کی 

غلاموں اورخادِموں پر کرَمِ مصطفیٰ 
	نَبِیِّکریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خادِموں اور غلاموں کے ساتھ بھی بڑی نرمی سے پیش
(1)	بلند تلوار (2) قہر کی بجلی (3) بادل کی طرح