Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
171 - 627
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں (پھر آپ کی بار بار درخواست پر) ان میں کمی کی گئی یہاں تک کہ پانچ ہوگئیں پھر کہا گیا : اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بے شک ہمارے ہاں قول نہیں بدلتا تمہارے لئے ان پانچ میں پچاس کا ثواب ہے ۔
(ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء کم فرض اللہ علی عبادہ من الصلوات، ۱/۲۵۴، حدیث:۲۱۳)
 (5)  نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مثل کوئی نہیں 
	حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: وِصال (یعنی بغیر سحر و افطار)کے روزے نہ رکھو۔  صحابہ نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّم!  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّمبھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ؟ فرمایا: تم میں سے کون میری مثل ہے؟ بے شک مجھے تومیرا ربّ کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ 		(بخاری، کتاب الصوم، باب التنکیل لمن اکثر الوصال، ۱/۶۴۶، حدیث:۱۹۶۵)
(6)اُمت پر شفقت
	امیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰیشیرِخُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی : 
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا  (پ۴، الِ عمران: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔
مسلمانوں نے 3بارپوچھا : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہر سال ؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَامخاموش رہے پھر فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا ۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء کم فرض الحج، ۲/۲۲۰، حدیث:۸۱۴)
(7)گناہ گاروں کے لئے خوشخبری
	حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :