(2)اُمَّت کے لئے تین دعائیں
حضرتِ سَیِّدُنا خَبَّاب بِن اَرَت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بہت لمبی نماز پڑھی صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی ہے جتنی آپ عام طور پر نہیں پڑھا کرتے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ہاں ! یہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی طرف رغبت کرتے ہوئے اور اُس سے ڈرتے ہوئے پڑھی تھی میں نے اِس نماز میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دو چیزیں مجھے عطا کردیں اور ایک چیز کے سوال سے مجھے روک دیا ۔ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کیا کہ میری اُمَّت کو(عام) قَحْط سے ہلاک نہ کرے ، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یہ چیز عطا فرمادی اور میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کیا میری اُمَّت پر کسی ایسے دشمن کو مُسَلَّط نہ کرے جو اُن کا غیر ہو، تو اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے یہ چیز بھی عطا فرمادی، میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے یہ سوال کیا کہ میری اُمَّت کے لوگ ایک دوسرے سے جنگ نہ کریں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اس سوال سے روک دیا ۔
(ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی سوال النبی ثلاثا فی امتہ، ۴/۷۲، حدیث:۲۱۸۲)
( 3) ہر نبی کے لئے ایک خُصوصی مقبول دعا ہوتی ہے
نَبِیِّرحمت، شفیع ِاُمَّت ،صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ ہر نبی کی ایک (خصوصی) مقبول دعا ہوتی ہے، ہر نبی نے دنیا میں وہ مانگ لی اور میں نے اسے قیامت کے دن اپنی اُمَّت کی شَفاعت کے لئے محفوظ رکھا ہے اور اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میری اُمَّت کے ہر اس فرد کو حاصل ہوگی جس نے شرک نہ کیا ہو گا۔‘‘
(مسلم،کتاب الایمان، باب اختباء النبی صلی اللہ علیہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لامتہ،ص۱۲۹، حدیث:۱۹۹)
(4)پانچ نمازوں پرپچاس کاثواب
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات نَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی