Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
169 - 627
	حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تا قیامت اپنی اُمّت کے سارے حالات پر مُطَّلع ہیں ، اُن کے گناہوں کودیکھتے ہیں تودل کوصَدمہ ہوتاہے،اس صَدمے کے جوش میں اُنہیں دعائیں دیتے ہیں ،اس کی تائیدربِّ کریم کے اِس فرمانِ عظیم سے ہوتی ہے۔
عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ (پ۱۱،التوبہ:۱۲۸) 

ترجمۂ کنز الایمان: جن پر تمہارا مَشَقَّت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
بدہنسیں تم ان کی خاطر 	    رات بھر رؤو کَرا ہو(۱)
بد کریں ہر دم بُرائی   	     تم کہو اُن کا بھلا ہو
(ملخصًاازمراٰۃالمناجیح ، ۳ / ۳۵۳)     
	نَبِیّرحمت ، شفیعِ اُمَّت ، مالکِ جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنی اُمَّت سے جتناپیارہے اتنا کسی کو کسی سے نہیں ہوسکتا، اُمَّت کا مَشَقَّت میں پڑنا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بہت گِراں گزرتا ہے ۔
’’کریم نبی‘‘کے 7حروف کی نسبت سینَبِیِّ رَحمت کی اپنی اُمَّت سے مَحَبَّت پر مُشْتَمِل ’’7‘‘اِیمان اَفروزروایات 
(1)میں صَدقے یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!
	نَبِیَِّ کریم، ر ء وف ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ اُلفت نشان ہے:’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، جب آگ نے اِرد گِرد روشن کردیا تو پروانے اور کیڑے مَکوڑے آگ میں گرنے لگے اور وہ شخص اُن کو آگ میں گرنے سے روکنے لگا اوروہ اس پر غالب آکر آگ میں گر تے رہے۔پس میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گر رہے ہو۔‘‘ 
(بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، ۴/۲۴۲، حدیث:۶۴۸۳)