طرح عبادت ہے، اِسی لئے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبکثرت توبہ واِستِغفَار کیا کرتے تھے ۔ورنہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَعصُوم ہیں گناہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب بھی نہیں آتا، صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔
زاہِداں اَزْ گناہْ تَوبَہْ کُنَنْدْ عارِفاں اَزْ عبادتْ اِسْتِغْفَار
(یعنی زاہد گناہ کی وجہ سے توبہ کرتے ہیں اور عارف لوگ عبادت کرکے اِستِغفار کرتے ہیں ) یاپھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ عمل تعلیمِ اُمَّت کے لئے تھا۔ (ملخصاََ ازمراٰۃالمناجیح ،۳/ ۳۵۳)
سردارِ دو جہان اُمَّت کے لئے اَمان ہیں
نَبِیّ رحمت ،شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بَرَکَت سے مخلوقِ خدا زمینی وآسمانی بلاؤں سے محفوظ رہتی ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی اُمَّت کے لئے اَمان ہیں۔چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُناابو موسی اَشعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :اللہ عَزَّوَجَلَّنے میری امت کے لئے مجھ پر دو اَمن (والی آیتیں ) اتاریں ہیں ، ایک:
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط(پ۹،الانفال:۳۳) ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔
اور دوسری :
وَمَاکَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(پ۹، الانفال:۳۳) ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔
جب میں دنیا سے پردہ کر لوں گاتو ان میں قِیامت تک کے لئے اِستِغفار چھوڑ دوں گا۔
(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، ۵/۵۶، حدیث:۳۰۹۳)