Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
167 - 627
نَبِیَِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِستِغفَار کرنے کی تَوجِیہات
	حافظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلانِی  قُدِّ سَ سِرُّہُ النُورَانِیفرماتے ہیں : اِستِغفَار کرنا وُقوعِ مَعصِیت کو مُستَلزَم ہے    (یعنی توبہ کسی گناہ پر ہی کی جاتی ہے ) حالانکہنبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَعصُوم( بلکہ تمام معصوموں کے سردار )ہیں ،پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کرنے کی کیا و جہ ہے؟علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام نے اسکی مختلف حکمتیں بیان فرمائیں ہیں : 
(1)عَلَّامَہ اِبن بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الغَفََّارنے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَامعبادَت کرتے ہیں ، وہ ہمیشہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں ، اس کے باوجود وہ تَقْصِیر(کمی ) کا اِعتراف کرتے رہتے ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا حق ادا نہ ہوسکنے پر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِستِغفَار کرتے ہیں۔(شرح بخاری لابن بَطّال، کتاب الدعائ، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۰/۷۷) 
(2)اِمَام غَزَالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے ’’اِحیاء ُالعُلوم‘‘ میں فرمایا:  نَبِیّ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدائماً (ہمیشہ) درجاتِ عالیہ کی طرف ترقی کرتے رہتے ہیں اور جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتے تو اپنے پہلے حال پر اِستِغفَار کرتے ہیں۔ (فتح الباری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۲/۸۵، تحت الحدیث:۶۳۰۷)
(3) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الغَنِینے فرمایا:آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتواضُعًااِستِغفَار کرتے تھے۔
 (4) آپ کا اِستِغفَار فرمانا تعلیمِ اُمّت کیلئے ہے۔ (عمدۃ القاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۱۵/۴۱۳، تحت الحدیث:۶۳۰۷)		
اِستِغفَار عبادت ہے
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  فرما تے ہیں :توبہ و اِستِغفَار، نماز، روزے کی