گناہوں کی معافی مانگنا اور توبہ کی حقیقت ہے کہ آیَندَہ گناہ نہ کرنے کا عَہد کرلینا،یا زبان سے گناہ نہ کرنے کا عَہد، اِستِغفَار اور دل سے عَہد توبہ کہلاتا ہے ۔ اِستِغفَار’’ غَفْرٌ‘‘ سے بنا ہے اس کا مطلب ہے ،چھپانا یا چھلکاو پَوست وغیرہ چونکہ اِسْتِغفَار کی برَکَت سے گناہ ڈھک جاتے ہیں اِس لئے اِسے اِستِغفَارکہتے ہیں۔توبہ کے معنی ہیں رُجوع کرنا ، اگر یہ حَق تعالی کیلئے اِستعما ل ہوتو اُس وقت اِس کے معنی ہوتے ہیں اِرادئہ عذاب سے رُجوع فرمالینااور اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اِس کے معنی ہوتے ہیں ،گناہ سے اِطاعت کی طرف، غفلت سے ذِکر کی طرف غَیْبَت سے حضور کی طرف لوٹ جانا،تو بہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گُزَشتَہ گناہوں پر نادِم ہو،آیَندَہ نہ کرنے کا عَہد کرے اور جس قدر ہوسکے گزشتہ گناہوں کا عِوَض اور بَدلہ اداکرے ، نمازیں ذِمّہ ہوں تواُن کی ادائیگی کرے، کسی کا قرض رہ گیاہو تو ادا کرے، حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : ’’توبہ کا کمال (درجہ) یہ ہے کہ دل ،لذّتِ گناہ بلکہ گناہ (ہی کو) بھول جائے۔‘‘( مر اٰۃ لمناجیح ،۳/ ۳۵۲ )
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ اَسْتَغْفِرُ اللہ
مذکورہ حدیثوں میں نبیوں کے تاجدار،حبیب پروَردگار، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اِستِغفَار کا بیان ہواکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزانہ 70مرتبہ سے بھی زیادہ اِستِغفَار فرمایا کرتے حالانکہ توبہ و اِستِغفار تو کسی گناہ پر ہوتا ہے جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو گناہوں سے معصوم ہیں ،بلکہ نہ جانے کتنے گناہ گار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صَدْقے بخشے جائیں گے۔ جیسا کہ قراٰنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ (پ۲۶، الفتح:۲)
ترجمۂ کنز الایمان :تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے ۔
پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِستِغفَار کرنے میں کیا حکمت ہے؟ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں جن میں سے کچھ بیان کئے جاتے ہیں :