Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
165 - 627
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا اَغَربسِنْ یَسَارمُزَنِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہنَبِیِّّ   کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اے لوگوــ!اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ100 مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے حضور توبہ کرتا ہوں۔
توبہ کسے کہتے ہیں ؟
 ٍ	 عمدۃُ القاری  میں توبہ سے متعلق علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کے مختلف اقوال : 
(1): بعض مشائخِ کرام کے نزدیک نَدامت توبہ ہے ۔
(2): بعض کے نزدیک گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کا عَزْمِ مُصَمَّم (یعنی پکا ارادہ ) توبہ ہے۔ 
(3):گناہ سے باز رہنے کا نام توبہ ہے ۔  
(4):مذکورہ تینوں باتوں کے مجموعے کانام توبہ ہے اور یہی سچّی توبہ کہلاتی ہے ۔
(5):علّامہ جَوہَرِی نے فرمایاکہ گناہوں سے رُجوع کرنے کا نام  توبہ ہے۔(عمدۃ القاری، الدعوات، باب التوبۃ، ۱۵/۴۱۴)
سچّی توبہ کی علامات
	حضرتِ سَیِّدُناعَبدُ اللہ بِنْ مُبارَک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ’’سچّی توبہ کی چھ علامات ہیں : (۱) گُزَشتَہ گناہوں پر نادِم ہونا (۲)گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کا عَزْمِ مُصَمَّ (۳) جن فرائض میں کوتاہی کی ہے ان کی ادائیگی (۴)جن کا حَق تَلَف کیا ہے انہیں ان کا حق دینا (۵)ناجائز و حرام مال سے بدن پر جو چربی چڑھ گئی ہو اُسے غَم وحُزْن کے ذریعے پگھلانا یہاں تک کہ کھال ہڈی سے چمٹ جائے اور پھر اگر اُس پہ گوشت آئے تو ایسا گوشت آئے جو حلال و طیب سے پروان چڑھا ہو(۶) جس طرح بدن کو نفسانی خواہشات کی لذت پہنچائی ہے اسی طرح اسے اطاعت کا مزہ چکھانا ۔‘‘(شرح بخاری لابن بَطّال،کتاب الدعائ، باب توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا، ۱۰/۸۰)
 توبہ و  اِسْتِغْفَار کی حقیقت
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں :اِستِغفَار کے معنی ہیں گُزَشتَہ