یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ (پ ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والواللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیاس آیت کے تحت فرماتے ہیں: توبۂصادِقہ جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو، اُس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے مَعْمُور ہو جائے اور وہ گناہوں سے مُجْتَنِب (یعنی بچتا) رہے۔ اَمِیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور دوسرے اَصحاب نے فرمایا کہ توبۂ نَصُوْح وہ ہے کہ توبہ کے بعد آدمی پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے جیسا کہ نکلا ہوا دودھ پھر تھن میں واپس نہیں ہوتا ۔ ( خزائن العرفان، پ ۲۸، التحریم : ۸)(تفسیر بغوی، پ۲۸،التحریم،تحت الایۃ:۸، ۴/۳۳۸)
حدیث نمبر:3 1 اِستِغفار کی اہمیت
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:وَاللہِ اِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِیْ الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔(بخاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۴/۱۹۰، حدیث:۶۳۰۷)
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہعَزَّوَجَلَّکی قَسَم !میں ایک دن میں70مرتبہ سے بھی زیادہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ وا ِستِغفَار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر:14 عَنِ الْاَغَرِّ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَااَیُّہَا النَّاسُ: تُوْبُوْا اِلَی اللہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ، فَاِنِّیْ اَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ ِالَیْہِ مِئَۃَ مَرَّۃٍ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ)
(مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص۱۴۴۹، حدیث:۲۷۰۳)