کے ذمہ باقی رہیں گے۔ توبہ ہر انسان پر لازم ہے۔ قراٰن وحدیث اور اِجماعِ اُمّت سے اِس پر بہت دلائل ہیں۔‘‘
توبہ سے مُتَعَلِّق’’3 ‘‘فرامینِ باری تعالیٰ
(1)
وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾ (پ ۱۸،النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہکی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس اُمید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
حضرت ِسَیِّدُنااِسماعیل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کے تحت لکھتے ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمام مسلمانوں کو توبہ و اِستِغفَار کاحکم فرمایااس لئے کہ انسان فطرۃً کمزور ہے باوجود کوشش کے وہ کسی نہ کسی غلطی میں پڑ ہی جاتا ہے ۔ اِمَام قُشَیْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:’’ توبہ کاسب سے زیادہ محتاج وہ ہے جواپنے لئے توبہ کی ضرورت محسوس نہ کرے۔اِس آیتِ مبارکہ میں ربِّ کریم کی صفتِ سَتَّاری کا بہت زیادہ ظہور ہے کہ اس نے تمام اَہلِ ایمان کو توبہ کاحکم ارشاد فرمایا تاکہ مُجرِم رُسوانہ ہوں،کیونکہ اگر صرف مُجرِموں کو خطاب ہوتاتو اُنکی رُسوائی ہوتی، اس فرمان سے اُمید بندھ جاتی ہے کہ جیسے دنیا میں رُسوا نہیں کیاایسے ہی آخرت میں بھی رسوا نہیں کرے گا۔‘‘ (تفسیر روح البیان، پ۱۸، النور، تحت الایۃ:۳۱، ۶/۱۴۵)
اک گناہ میرا ماں پیو ویکھے عمری منہ نہ لاوے لکھ گناہ میرا مالک ویکھے فر وِی پردے پاوے
( یعنی اگر والدین اپنی اولاد کا کوئی گناہ دیکھ لیں توبسا اوقات عمر بھر کے لئے ناراض ہو جاتے ہیں لیکن اللہعَزَّوَجَلَّ ایسا کریم ہے کہ لاکھوں گناہوں کے باوجود ہمیں رسوا نہیں کرتا بلکہ ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے )
(2)
وَ اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ (پ ۱۲،ہود:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے ربّ سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ۔