Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
162 - 627
 باب نمبر 2:	    توبہ واِسْتِغفَار کا بیا ن
 	خُدائے حَنَّان ومَنَّا ن  عَزَّوَجَلَّکا ہم گناہ گاروں پر کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں نبیِّ آخرالزَّمان، شہنشاہِ کون و مکانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت میں پیدا فرما یا ،کروڑوں درودوسلام ہوں اُس نبیَِّ رحمت ،شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کہ جن کے صَدقے ہم پر توبہ و اِستِغفار کے دروازے ایسے کھلے کہ جب تک سورج مغرب سے طُلُوع نہ ہو اُس وقت تک کی گئی ہر سچّی توبہ قُبول ہے۔ اگرربِّ کریم کا یہ اِحسانِ عظیم نہ ہوتا تو تباہی وبربادی ہمارا مُقَدَّر ہوتی۔ 
	اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے’ ’رِیَاضُ الصَّالِحِیْن‘‘ کے اِس باب میں توبہ واِستِغفَار سے متعلق 3تین آیاتِ کریمہ ،12احادیثِ مبارَکہ اور توبہ کی شرائط بیان فرمائی ہیں۔ ہم اِس باب میں توبہ کی تعریف وضرورت، اہمیت وفضیلت ، روایات وحکایات اور دیگر مفید باتیں بیان کرینگے ۔
 توبہ کی شرائط
	مُصَنِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ قُبولِیَّت ِتوبہ کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’تمام گناہوں سے توبہ واجب ہے ۔ اگر گناہ بندے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے درمیان ہو اور اس میں کسی بندے کا حق مُتَعَلِّق نہ ہو تو اُس گناہ سے توبہ کی تین شرائط ہیں :(۱)اُس گناہ کو ترک کرنا (۲)  گناہ پر شرمندہ ہونا(۳)اِس بات کا پُختہ ارادہ کرنا کہ اب یہ گناہ دوبارہ کبھی نہیں کروں گا ۔اگر اِن شرائط میں سے ایک بھی نہ پائی گئی تو توبہ صحیح نہ ہوگی اور اگر گناہ کسی انسان سے مُتَعَلِّقہو تو پھر توبہ کیلئے ان تین شرطوں کے علاوہ چوتھی شرط یہ ہے کہ جس کاحق تَلف کیا اُس کا حق ادا کرے ، اگرحق مال وغیرہ کی قِسم سے ہو تو اس کوواپس کرے۔اگربندے کا حق تُہْمَت وغیرہ کی قِسم سے ہو تو اُس کو اپنے اوپر اِختیار دے یا اُس سے معافی مانگے اور اگر غِیْبَت وغیرہ ہو تو پھر بھی اُس سے معافی مانگے ،تمام گناہوں سے توبہ واجب ہے ، اگر گناہوں میں سے بعض سے توبہ کی تو اہلِ حق کے نزدیک اُن گناہوں سے توبہ صحیح ہے لیکن جن سے توبہ نہیں کی وہ اس