Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
160 - 627
 اَدَب اِحترام ، نیک اَعمال پر اِستقامت، تَقْوٰی واِخلاص اوراچھے خاتمے کی دولت سے مالامال فرما!
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مَدَنی گلدستہ
’’  بارہویں شریف ‘‘کی نسبت سے اس حد یثِ مبارکہ اور اس کی وضاحت سے ملنے 12 مدنی پھول 
(1) کسی خالص نیکی کوبارگاہ ِخداوندی میں وسیلہ بنا کر دعا کرنا دعا کی قبولیت کا باعث ہے ۔
(2) جو خوشحالی وفراخی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد رکھے اللہ عَزَّوَجَلَّ مصیبت وپریشانی میں اس کی مدد فرماتا ہے۔مصیبت چاہے کیسی ہی بڑی کیوں نہ ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس پر تَوَکُّل کرتے ہوئے اُسی سے دعا کرنی چاہئے وہی ہر مصیبت کو ٹالنے والا ہے۔
(3)اِخلاص کی بدولت بڑی بڑی مصیبتیں دور ہوجاتی ہیں ان تینوں مسافروں کی نیکیاں اِخلاص پر مبنی تھیں اس لئے وہ موت کے منہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
(4)والدین کی خدمت کرنا دنیا و آخرت میں باعثِ سعادت ہے، ان کی خدمت کی برکت سے بارگاہ خداوندی میں بہت بلند مقام نصیب ہوتا ہے۔ 
(5)اپنے بیوی بچوں اور دیگر تمام رشتہ داروں پرماں باپ کوفَوْقِیَّت ( ترجیح)دینی چاہئے۔
(6)والدین کا جتنا بھی ادب واحترام کیا جائے ان کے احسانات کا بدلہ نہیں اتر سکتا ۔
 (7)باوجود قدرت محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے بدکاری سے باز رہنا بہت بڑی نیکی ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّایسے بندوں پر خصوصی کرم فرماتا ہے۔
(8) گناہ نہ کرنا بھی کمال ہے لیکن گناہ کے سب اسباب مہیا ہونے کے باوجود گناہ سے بچنابہت بڑاکمال ہے ۔