Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
159 - 627
تیری طرف میرے اس چلنے کا ہے کیونکہ میں فخر اور غرور اور لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لئے نہیں چلا بلکہ میں تو تیری ناراضی سے بچنے اور تیری خوشنودی حاصل کرنے نکلا ہوں ،میں تیری بارگاہ میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا اور میرے گناہ معاف فرما کیونکہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والاہے۔(ابن ماجہ، کتاب المساجد و الجماعات، باب المشی الی الصلاۃ، ۱/۴۲۸، حدیث: ۷۷۸)
	اس حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ہر بندۂ مومن سیتَوَسُّل جائز ہے چاہے وہ زندہ ہو یا فوت ہو چکا ہو ، ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوانکو یہ دعا سکھائی اور اسے پڑھنے کی ترغیب دلائی ہر ذی شعور اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر تَوَسُّلجائز نہ ہوتا تونہ یہ دعاسکھائی جاتی نہ اس کی ترغیب دلائی جاتی ۔   
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
	 معلوم ہوا کہ نیک بندوں کی حیات ظاہری ا وروصال کے بعد بھی ان کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا دعاؤں کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے نیک بندوں کے وسیلے سے مانگی جانے والی دعاؤں کو بہت جلد قبول فرماتا ہے ۔اگر ہم جیسے گنہگار بھی نیک بندوں اورانکی خالص ومقبول نیکیوں کے وسیلے سے دعا کریں تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ہماری حاجات پوری فرمائے گا کیونکہ ان کی نیکیاں بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں ، ہم دعا کرتے ہیں کہ’’ اے ہمارے پاک پرورد گار عَزَّوَجَلَّ ! اپنے پیارے نبی، محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقبول سجدوں کا واسطہ ،حضرت ِحُسَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی پیاری شہادت کا صَدْقہ اور حضور غوث پاک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اطاعتوں کاواسطہ ہمیں اپنی دائمی رضا ،اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت، اولیائے کرام کا