Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
158 - 627
چنانچہ، حضرت سیِّدُناامام بَیْہَقِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں : 
  وِصال ظاہری کے بعد مشکل کشائی
	ایک مرتبہاَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمرفارق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے دورِ خلافت میں لوگ قحط میں مبتلا ہوئے توحضرتِ سَیِّدُنا بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شَہَنْشاہِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضۂ مقدسہ پر حاضر ہو کر عرض کی:’’ یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اپنی اُمّت کے لئے بارش کی دعا فرمائیے کیونکہ لوگ ہلاکت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘خواب میں انہیں رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت نصیب ہوئی تو ارشادفرمایا :’’تم عمر بن خطاب کو ہمارا سلام کہو اور بتاؤ کہ انہیں بارش سے سیراب کیا جائے گا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو یہ خوشخبری سنائی تو وہ رو پڑے اور لوگ بارانِ رحمت سے سیراب ہوگئے ۔ 		    (دلائل النبوہ للبیھقی، ۷/ ۴۷)
70ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں 
	حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ پیکرِ اَنوار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلے اور یہ کلمات پڑھے تواللہ عَزَّوَجَلَّ ستر ہزار فرشتے مقر رفرماتا ہے جو اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے وَجْہِ کریم کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنی نماز پوری کر لے۔(وہ کلمات یہ ہیں :)
’’ اللہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ فَإِنِّیْ لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِیَائً وَلَا سُمْعَۃً خَرَجْتُ اِ تِّقَائَ سَخَطِکَ وَابْتِغَائَ مَرْضَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُنْقِذَ نِیْ مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِیْ ذُنُوبِیْ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ‘‘
	ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے اس حقْ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں جو سائلوں کا تجھ پر ہے اور اس حق کے طفیل جو