ذریعے بھی توَسُّلجائز و مستحسن ہے جنہیں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خاص نسبت حاصل ہے ۔
(شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثہ، ص۳۷۶)
وسیلے کی برکت سے بارانِ رحمت
اِمام محمد بن اسمٰعیل بُخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی حضرتِ سَیِّدُناانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کامعمول تھا کہ جب قحط واقع ہوتا توحضرتِ سَیِّدُنا عَبَّاس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے وسیلے سے دعا مانگتے اور یوں عرض کرتے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی کا وسیلہ پیش کرتے تھے اور تو بارش عطا فرماتاتھا اب ہم اپنے نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا کے وسیلے سے دعاکرتے ہیں کہ ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرما !راوی فرماتے ہیں کہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی دعاقبول ہوتی اور لوگوں کو بارش سے سیراب کردیاجاتا۔
(بخاری، کتاب الاستسقائ، باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا، ۱/ ۳۴۶ِ حدیث:۱۰۱۰)
وسوسہ: اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اس عمل سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعدآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ بناناجائز نہیں اگر جائز ہوتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سیِّدُناعباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو وسیلہ کیوں بناتے ؟
وسوسے کا علاج :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حضرت سیِّدُناعباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو وسیلہ بنانے سے تو یہ بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ حضورنبیِّ کریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علاوہ اور ہستیوں کوبھی وسیلہ بنانا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں سے حضرت سیِّدُناعباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس لئے خاص کیا گیا تاکہ اہلِ بیت کی عزت وشرافت ظاہر ہو ۔وصالِ ظاہری کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ بنانا بالکل جائز اور کِبار صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے۔