Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
156 - 627
 وَسَلَّم!دعا فرمائیں کہ اللہعَزَّوَجَلَّ  میری بینائی پر پڑے ہوئے پردے کو دور فرمادے! آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اگر تم چاہوتومیں تمہارے لئے دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کرو اور صبر تمہارے لئے بہتر ہے ۔ عرض کی: آپ دعافرمادیجئے! نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرو اور یہ دعا مانگو!
’’ اللھُمَّ  اِنِّی اَسْأَلُکَ وَاَ تَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ اَتَوَجَّہُ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہِ لِتُقْضٰی لِیْ اللھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔‘‘
ترجمہ:’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی محمد مصطفیٰ، نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں ، یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت کے سلسلے میں متوجہ ہوں تاکہ یہ حاجت پوری کی جائے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت میرے لئے قبول فرما!‘‘  راوی فرماتے ہیں کہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم! ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص آیا اور وہ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کبھی وہ نابینا تھا ہی نہیں۔(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی انتظار الفرج۔۔۔ الخ، ۵/۳۳۶، حدیث:۳۵۸۹)  (دلائل النبوۃ للبیھقی باب ما فی تعلیمہ الضریر ماکان فیہ شفاؤہ… الخ، ۶/ ۱۶۸)
فاطمہ بنت اَسد  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لئے دعائے نبی
	حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْمکی والدۂ ماجدہ حضرتِ سَیِّدَتُنافاطمہ بنت اسد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا   فوت ہوئیں تو نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس طرح دعا فرمائی ! اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میری ماں فاطمہ بنت اسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی مغفرت فرما اوراپنے نبی اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے حق کے صَدْقے (وسیلے ) سے ان کی قبر کو وسیع فرما!  (معجم کبیر،  ۲۴ /۳۵۱، حدیث:۸۷۱)
	حضرت سیدنا امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : جس طرح حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات والا صفات سیتوَسُّلجائز ہے اسی طرح ان بزرگوں کے