Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
155 - 627
 میں جان گیا کہ تیرے نام کے ساتھ جس ہستی کا نا م ہے وہ تیرے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ارشاد ہو ا :’’ اے آدم!(عَلَیْہِ السَّلَام) تو نے ٹھیک کہا، بے شک! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے حق کا واسطہ دے کر مغفرت چاہی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ (مستدرک حاکم، کتاب آیات رسول اللہ… الخ، باب استغفا رآدم عیلہ السلام…الخ،  ۳ / ۵۱۷،حدیث: ۴۲۸۶)
	اللہعَزَّوَجَلَّنے حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وحی فرمائی :اے عیسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر ایمان لاؤ اور اپنی امت سے کہو کہ جو بھی ان کو پائے ان پر ضرور ایمان لائے، اگر محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نہ ہوتے تو میں آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) کو پیدا نہ کرتا اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں جنت اور جہنم کو بھی پیدا نہ کرتا، میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ ہلنے لگا، پس میں نے اس پر’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ لکھا تو ٹھہر گیا۔(مستدرک حاکم، کتاب آیات رسول اللہ…الخ،  باب کان اجود الناس باالخیر…الخ، ۳  /۵۱۶، حدیث:۴۲۸۵) 
حیات ِظاہری میں وَسیلہ پکڑنا 
	 امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں :حضور نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں آپ کی ذات والا صفات کو وسیلہ بنانا جائز ہے ، اس کے ثبوت کے لیے وہ روایت کافی ہے جس میں وسیلے کی برکت سے آنکھیں روشن ہوگئیں۔ (ملتقطاًشفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثۃ، ص۳۷۰)  
وسیلے کی برکت سے آنکھیں روشن ہوگئیں 
  	حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں ایک نابینا صحابی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  حاضر ہوئے اور عرض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ