Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
154 - 627
نیکیاں بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہیں۔حدیث مذکور میں تَوَسُّل( یعنی وسیلے) کا بیان ہوا لہٰذا تَوَسُّل سے متعلق اہم باتیں ملاحظہ فرمائیے ! 
	توَسُّل کامطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی محبوب ہستیوں کے ذکر کی برکتیں حاصل کی جائیں کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحم فرما تا ہے ۔اولیائے کرام سے تَوَسُّل یہ ہے کہ حاجتوں کے بر آنے کے لئے اور اپنے مَطالِب کے حصول کے لئے انہیں اللہ عَزَّوَجَلََّّ  کی بارگاہ میں وسیلہ و واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلََّ  کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔							(العقائد والمسائل، ص ۱۸)
	 امام تَقِیُّ الدِّیْن سُبْکِی شافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیْ فرماتے ہیں :’’حاجت مند شخص حضور نبیِّ کریم،  رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرتبے اور آپکی برکت کے طفیل  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی حاجت طلب کرے، یہ ہر حالت میں جائز ہے، خواہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ با سعادت سے پہلے ہو یا ظاہری حیاتِ طیبہ میں یا وصالِ ظاہری کے بعد اور ہر حالت میں اس کے جواز پر احادیث مبارَکہ موجود ہیں۔‘‘
(شفاء ا لسقام فی زیا رۃ خیر الانام،الباب الثامن فی التوسل والاستغاثۃ،ص۳۵۸(
 عرش اعظم پہ لکھا ہمارا نبی 
	  اللہ عَزَّوَجَلّکے محبوب ،دانائیغُیُوْب مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جب آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے حق کے وسیلے سے دعاکرتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرمادے۔تو ارشاد ہوا:’’ اے آدم تو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو کیسے جان گیا میں نے تو ابھی انہیں پیدا بھی نہیں کیا؟‘‘عرض کی: ’’اے باری تعالیٰ! جب تو نے مجھے اپنے دست ِقدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا ،عرش کے پایوں پر لکھاتھا:’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘پس