جدائی، عزیزِ مصرکی بیوی کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا ہونے، آپ کی پاکدامنی اور صبر وشکر پر تعجب ہو رہا ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا:’’کیا تجھے اس شخص پر تعجب نہیں ہو رہاجسے ایک دیہاتی عورت کا واقعہ پیش آیا ۔‘‘آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آپعَلَیْہِ السَّلَام نے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن یَسَارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے حضرتِ سیِّدُنا عَطَاء بن یَسَار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہ بتایا۔انکے انتقال کے بعد اپنے گھر والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ پھر یہ واقعہ پورے شہر میں مشہورہو گیا ۔ (عیون ا لحکایات، ص۳۸۲)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اپنی عزت کی حفاظت کس طرح کیا کرتے تھے انہیں دنیا کی رنگینی گناہ پر آمادہ نہ کرسکتی تھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی ہرآن گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیکیوں کی طرف راغب ہونے اور بُرے کاموں سے بچنے کا ذہن بنا نے کے لئے’’دعوت اسلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسالے’’باحیانوجوان‘‘کا مطالعہ کیجئےاِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّبہت برکتیں نصیب ہونگی۔
گناہوں سے ہر دم بچا یا الٰہی
مجھے متقی تو بنا یا الٰہی
تَوَسُّل (وسیلے) کی برکتیں
جومسلمان اپنی کسی خالص نیکی کوبارگاہ ِخداوندی میں وسیلہ بنا کراخلاص سے دعا کرے تو قوی اُمید ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسکی دعا کو قبول فرمائے گا جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب ان مسافروں نے اپنے خالص اعمال کاوسیلہ پیش کیا توانکی مصیبت دور ہوگئی۔ اگر ہم جیسے گنہگاربندے بھی نیک بندوں کی خالص ومقبول نیکیوں کے وسیلے سے دعا کریں تواللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات سے اُمید ہے کہ وہ ہماری حاجات پوری فرمائے گا کیونکہ ان کی