Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
151 - 627
(2)سمجھدارو پارسا عورت
	بصرہ کا ایک مالدارشخص ایک دن اپنے باغ میں گیا تو نوکر کی حسین وجمیل بیوی کو دیکھ اس کی نیت خراب ہوگئی۔اس نے نوکر سے کہاکہ’’ جاؤ! کھجوریں لے آؤ،پھر فلاں فلاں کو بلا لاؤ۔‘‘نوکر کے جاتے ہی مالدار شخص نے اس کی بیوی کواپنے محل میں بلایااور تمام دروازے بندکرنے کا حکم دیا،جب اس نے تمام دروازے بند کردیئے تو پوچھا:’’کیاتمام دروازے بند کردئیے ہیں ؟‘‘سمجھ دار و نیک عورت نے کہا:’’باقی سب تو بند کر دیئے لیکن ایک دروازہ بند نہ کرسکی۔‘‘پوچھا:’’کون سا دروازہ؟‘‘کہا:’’وہ جو ہمارے اورہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان ہے۔‘‘یہ جملہ تاثیر کا تیر بن کر مالدار کے دل میں پیوست ہوگیا،اس نے فوراََاپنے بُرے اِرادے سے توبہ کی اور روتا ہواوہاں سے رخصت ہو گیا۔(عیون الحکایات،ص۲۳۶)
  (3) عورت سے زیادتی کرنے والے کی توبہ
	مروی ہے کہ ایک شخص کا گزر کسی حسین و جمیل عورت کے پاس سے ہوا۔ اس پر نگاہ پڑتے ہی اس کے دل میں برائی کا ارادہ پیدا ہو گیا وہ اس کے پاس گیا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا ۔عورت نے کہا :جو کچھ تو نے دیکھا ہے اس کے دھوکے میں نہ پڑ ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن مرد پر شیطان سوار رہا حتی کہ اس نے زبردستی عورت پر قابو پا لیا۔ عورت کے ایک طرف آگ کے انگارے پڑے ہوئے تھے اس نے ان پراپنا ہاتھ رکھ دیا حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گیا ۔ جب مرد گناہ سے فارغ ہوا تو اس نے حیرت و تعجب سے پوچھا: یہ تو نے اپناہاتھ کس لیے جلا ڈالا ؟ عورت نے کہا : جب تو نے زبردستی مجھ پر قابو پا لیا تو میں ڈر گئی کہ لذتِ گناہ میں کہیں میں بھی تیری شریک نہ ہو جاؤں اور اس کی وجہ سے مجھے بھی گنہگار ٹھہرا دیاجائے ،پس اسی وجہ سے میں نے اپنا ہاتھ جلانا مناسب خیا ل کیا ۔مرد یہ بات سن کر شرم سے پانی پانی ہو گیا اور ا س نے انتہائی ندامت میں مبتلا ہوتے ہوئے کہا :اگر یہ بات ہے تو اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !میں بھی آیندہ کبھی اپنے ربّعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔پھر اس نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں