Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
150 - 627
حیثیت خوبصورت عورت گناہ کے لئے بلائے تو وہ کہے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتاہوں۔‘‘
 ( بخاری،کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین، ۱/۴۸۰، حدیث:۱۴۲۳)
	انسان اگر گناہوں سے بچنے کا پختہ ذہن بنا لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت شامل حال ہوجاتی ہے پھر نہ صرف وہ خود گناہوں سے محفوظ رہتابلکہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی گناہوں سے بچ جاتے ہیں۔ چنانچہ، اس ضمن میں ’’اَحْمَد‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے4حکایات ملاحظہ ہوں۔ 
(1)کِفْل بخشا گیا
	حضرتِ سَیِّدُناابو عبدالرحمٰن عَبْدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اگر میں نے تاجدارِ رسالت،شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ حدیث سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میں ہرگز تمہیں نہ سناتا لیکن میں نے اس سے بھی زیادہ مرتبہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سناکہ’’ بنی اسرائیل میں ’’ کِفل‘‘ نامی ایک بہت گناہ گار شخص تھا ۔ایک مرتبہ ایک مجبو ر عورت نے اس سے کچھ رقم کا سوال کیا تو اس نے بد کاری کی شرط پر اسے سو دینارد ئیے ۔ جب وہ عورت کے قریب ہو ا تو وہ زور زور سے کانپتے ہوئے رونے لگی، پوچھا :کیوں رورہی ہے؟ کہا: میں نے یہ کام پہلے کبھی نہیں کیا، آج ایک ضرو رت نے مجھے اس بُرے کام پر مجبور کردیا ہے۔یہ سن کرکِفل اس عورت سے دور ہٹ گیااور کہا:جب خوفِ خدا سے تیری یہ حالت ہے ، تومیں تو تجھ سے زیادہ اس سے ڈرنے کا حقدار ہوں ،جا! جورقم میں نے تجھے دی ہے وہ تیری ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آج کے بعد میں کبھی بھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کروں گا۔پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا۔ صبح اس کے درو ازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی ’’اِنَّ اللہَ قَدْ غَفَرَ لِلْکِفْلِ‘‘ ترجمہ: یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّنے کفل کی مغفرت فرمادی۔ تو لو گو ں کواس بات پر بہت تعجب ہوا۔ ‘‘
(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب فی صفۃ اوانی الحوض، ۴ / ۲۲۳، حدیث: ۲۵۰۴)