Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
147 - 627
ِمبارکہ میں نظروں کی حفاظت کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ ،
 زہر میں بجھا ہوا تیر
	 حضرتِ سَیِّدُناابن مسعو د  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمََنے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بدنگاہی شیطان کے تیرو ں میں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے ،جو اُسے(یعنی بد نگاہی کو)میرے خوف سے چھو ڑ دے گا میں اسے ایسا ایمان عطا فرماؤں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کریگا۔  				(معجم کبیر، ۱۰ /۱۷۳، حدیث:۱۰۳۶۲) 
	واقعی بد نگاہی شیطان کا ایساکامیاب اور زہریلا تیر ہے کہ بہت سے عابد وزاہد اس سے زخمی ہوکر جہنم میں چلے گئے۔ چنانچہ، منقول ہے کہ
بدنگاہی بربادیٔ ایمان کا سبب بن گئی
	 ایک مؤذن جسے اذان دیتے ہوئے چالیس سال ہو گئے تھے۔ ایک دن اذان دیتے ہوئے اس کی نظر ایک نصرانی عورت پر پڑی تو عقل اوردل جواب دے گئے۔ اذان چھوڑ کراس عورت کے پاس پہنچااور نکاح کا پیغام دیا وہ کہنے لگی: میرا مہرتجھ پر بھاری ہو گا۔ پوچھا: تیرا مہر کیا ہے؟ کہا: دین اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جا! (معاذاللہ)۔ یہ سن کراس بدنصیب نے مرتد ہوکر عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔نصرانی عورت نے کہا کہ میرا باپ گھر کے سب سے نچلے کمرے میں ہے، تو اس سے نکاح کی بات کرلے۔ چنانچہ، جب وہ اترنے لگا تواس کاپاؤں پھسلااور شادی کی تمنادل  ہی میں لئے حالتِ کفر میں مر گیا ۔نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ سُوْءِ الْخَاتِمَۃِ یعنی ہم برے خاتمے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ 								       (الروض الفائق، ص ۱۶)
 نفسِ بے لگام تَو گُناہوں پہ اُکساتا ہے 			توبہ توبہ کرنے کی بھی عادت ہونی چاہئے
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ 	اَسْتَغْفِرُ اللہ