Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
141 - 627
واقعہ غار والوں کی تعریف وفضیلت میں بیان فرمایا۔ اس حدیث پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک ، حرام کام پر قدرت کے باوجوداس سے بچنا ، امانت کی ادائیگی اوردیگر معاملات میں نرمی برتنے اور اِجارے کے جواز کا بیان ہے، اس حدیث پاک میں کراماتِ اولیا کا ثبوت بھی ہے اور یہ اہل حق کا مذہب ہے ۔ (شرح مسلم للنووی ،کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار باب قصۃ اصحاب الغار والتوسل بصالح الاعمال، ۹/ ۵۶، الجزء السابع عشر)
	علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :مذکورہ حدیث سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے :
(1)اُمَمِ سابقہ (پچھلی امتوں ) کے واقعات اور ان کے اچھے اعمال کو بطور ترغیب بیان کرنا جائز ہے ،کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی کلام بھی فائدے سے خالی نہیں ہوتا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غار والوں کا یہ واقعہ امت کی ترغیب کے لئے بیان فرمایا۔ 
 (2) والدین اور بیوی بچوں کا نفقہ واجب ہے اور والدین کا حق دوسرے سب اہل وعیال سے ز یادہ ہے ۔
(3) حالتِ کَرب (دکھ اور مصیبت)  میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے نیک اَعمال کے وسیلے سے دعا کرنا مستحب ہے جیسا کہ اِسْتِسْقَاء میں کی جاتی ہے ۔
(4) جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کر لے اور پھر نیک اعمال میں مصروف ہوجائے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔ 
(5) اور جو برائی کا عَزْمِ مُصَمَّمْ(پکا اِرادہ) کرلے اور پھر رضائے الٰہی کے لئے اس برائی سے باز رہے تو اسے نیکی عطا کی جاتی ہے۔ (ملخصاً عمدۃ القاری ، کتاب البیوع، باب اذا اشتری شیئا لغیرہ …الخ، ۸/۵۲۸، تحت الحدیث:۲۲۱۵) 
	معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک،پاکدامنی اور مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی ،ان تینوں کا تعلق حُقُوقُ العِبادسے ہے اوریہ ایسی نیکیاں ہیں کہ جن کی برکت سے بڑی بڑی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں ،مصیبت میں پھنسے ہوئے مسافروں نے جب اپنے اِن اعمال کا وسیلہ بارگاہ خدا وندی میں پیش کیا تو انہیں غار کی قید سے نجات مل گئی ۔