Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
142 - 627
قراٰن وحدیث میں ان تینوں اعمال کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔
والدین کے ساتھ حُسنِ سُلُوک
	غار میںپھنسے مسافروں میں سے ایک نے اپنے والدین کے ساتھ نہایت اچھا سُلُوک کیا تھا،والدین کو اولادپرترجیح دی ان کے آرام کی خاطر ساری رات کھڑے کھڑے گزار دی ،خود بھی بھوکا رہا اور گھر والوں کو بھی والدین سے پہلے دودھ نہ دیا، اس کایہ عمل بارگاہ رَبُّ الْعِزَّت میں ایسا مقبول ہوا کہ ایک بڑی مصیبت ٹلنے کا سبب بنا۔ بوڑھے ماں باپ کو اپنی چھوٹی اولاد پر ترجیح دینا بھی نیکی ہے کہ پہلے ان کی خدمت کرے بعد میں بچوں کو سنبھالے، خیال رہے کہ یہ بچوں پر ظلم نہیں بلکہ ماں باپ کے ادب و احترام کی اعلیٰ ترین مثال ہے، بوڑھے ماں باپ بھی بچوں کی طرح ہوجاتے ہیں جو انہیں تکلیف دے گا اس کی اولاد بڑھاپے میں اس کو تکلیف دے گی یہ خدمت یا ایذا رَسانی نقد سودا ہے اس ہاتھ دے اس ہا تھ لے۔
 والدین کو اُف تک نہ کہو!
	اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کو والدین کے ساتھ حُسنِ سُلُوک کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلَاہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾   وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾  (پ۱۵، اسراء :۲۳۔۲۴) 
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سُلُوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے’’ ہُوں‘‘ نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(بچپن) میں پالا۔