برابر سمجھتے تھے۔‘‘ (التر غیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ لمن لم یکن بھا …الخ، ۲/۶۹، حدیث:۸)
(3) نور کے پیکر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ جس نے عرفہ کا روزہ رکھا، اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب صیام یوم عرفۃ، ۳/۴۳۶، حدیث:۵۱۴۲)
(4)اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے کہ’’ عرفہ کا روزہ ایک ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے۔‘‘ (شعب الإیمان، الباب الثالث والعشرون ھو باب فی الصیام، تخصیص یوم عرفۃ بالذکر، ۳/۳۵۷، حدیث :۳۷۶۴)
محرم اور شعبان کے روزوں کی فضیلت
مُحَرَّمُ الْحَرَاماور شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے مہینے بھی بہت برکتوں والے ہیں ان میں بھی نیک اعمال کا ثواب بہت زیارہ بڑھا دیا جاتا ہے۔چنانچہ، اس بارے میں 5 فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ فرمائیے:
(1) رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، ص۵۹۱، حدیث:۱۱۶۳)
(2) فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے اور رَمَضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس مہینے کے ہیں جِسے تم مُحَرَّم کہتے ہو۔
(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب الصیام فی شہر اللہ المحرم، ۳/ ۴۳۸، حدیث:۵۰ ۵۱)
(3) جس نے عرفہ کے دن کا روزہ رکھا تو یہ اس کے لئے دوسال(کے گناہوں )کاکفارہ ہے اور جس نے محرم کے ایک دن کا روزہ رکھا تواسکے ہر دن کے بدلے اس کے لئے تیس) (30 نیکیاں ہیں۔(معجم کبیر،۱۱/۶۰، حدیث:،۸۲۔۱۱۰۸۱)
(4) جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس میں قیام کیا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھاکرو کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ