Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
135 - 627
 غروب شمس سے طلوع فجر تک(اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور طلوعِ فجر تک ارشا د فرماتارہتاہے کہ’’ ہے کوئی مغفرت چاہنے والاکہ اُس کی مغفرت فرماؤں ؟ ہے کوئی رزق کا طلب گا ر کہ اُسے رزق عطا فرماؤں ؟ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت دوں ؟ ہے کوئی ایسا ہے کوئی ویسا؟‘‘
(ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، ۲/۱۶۰، حدیث:۱۳۸۸)
(5) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’میرے پاس جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور عرض کی: یہ نصف شعبان کی رات ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں بَنِی کَلْب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں مشرک ،بغض رکھنے والے اور قطع رحمی کرنے والے اور تکبرکی وجہ سے اپنے تہبند کو لٹکانے والے اور والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔‘‘
 (الترغیب والترہیب، کتاب الصیام، باب الترغیب فی صوم شعبان وماجاء فی صیام النبی… الخ، ۲/۷۳،حدیث:۱۱)
  سوال:’’ جس طرح ایک نیکی کے بدلے دس، سات سو یا اس سے بھی زیادہ نیکیاں عطا کی جاتی ہیں کیا اسی طرح گناہ بھی بڑھا دیا جاتا ہے ؟‘‘
جواب :’’ہمارے کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ  کاہم پر بہت بڑا کرم واِحسان ہے کہ ایک گناہ کے بدلے صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتاہے بَڑھایا نہیں جاتا ۔ ہاں کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی نُحُوسَت سے اعمال کے ساتھ ساتھ ایمان بھی برباد ہو جاتا ہے ۔ جیسے ،ذات ِباری تعالیٰ اورانبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی شان میں گستاخی کرنا وغیرہ ۔ اس کے علاوہ کچھ مقامات واوقات بھی ایسے ہیں کہ جن میں گنا ہ کرنے کا وبال بہت زیادہ ہے ۔ جیسے رمضان میں اوراسی طرح حرم شریف میں گناہ کا وبال بہت زیادہ ہے۔ 
	 انسان اچھی نیت کی وجہ سے دین ودنیا کی سعادتیں پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ بُری نیت سراسر وَبال ہے اس ضمن میں ایک حکایت پیش خدمت ہے: