میں 4 فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہوں :
(1) جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ اس کے لئے ساری زندگی روزے رکھنے کے برابرہے۔(مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال …الخ، ص ۵۹۲، حدیث:۱۱۶۴)
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک نیکی کو دس گنا کردیا، لہٰذا رمضان کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہے اور عید الفطرکے بعدچھ دن پورے سال کے برابر ہیں۔(الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم ست من شوال، ۲/۶۷، حدیث:۲)
(3) رمضان کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہیں اور اس کے بعد چھ دن کے روزے دومہینوں کے برابر ہیں تو یہ پورے سال کے روزے ہوگئے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم ست من شوال، ۲/۶۷، حدیث:۲)
(4)جس نے رمضا ن کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تووہ گناہوں سے ایسے نکل جائیگا جیسے اس دن تھا جس دن اسکی ماں نے اسے جنا تھا ۔(مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فیمن صام رمضان وستۃ ایام من شوال، ۳/۴۲۵، حدیث:۵۱۰۲)
عَرَفَہ کے روزے کا ثواب
عَرَفہ کی فضیلت پر مشتمل 4 روایات
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جو عرفہ (۹ذوالحجۃالحرام) کے دن روزہ رکھتاہے اس کے پے در پے دوسالوں کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔‘‘
(التر غیب والترہیب، کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ لمن لم یکن بھا …الخ، ۲/ ۶۸، حدیث:۴)
(2)حضرتِ سَیِّدُنا سَعِیْد بِنْ جُبَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’ ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری میں ہم اسے دوسال کے روزوں کے